تاک گلستان

تیری جانب ، اے شہر گل ، نظر بیتاب کھڑی

کھڑی تو ہے ، مگر معلوم ہے بیکار کھڑی

شاید صدا اے گی یہ، کے مجھ سے ہے کچھ کام طلب

اسی خواہش میں مین تیرے در پے ساری رات کھڑی

میرے سینے پر تیری تھامی ہوئی ہتھیلی تھی کبھی

تیری طرز و نظر سنگین، بلاتا تھا دلدار کبھی

آج تیری رہ بھی اور، صحبت یار بھی اور

بےسبب دوران خزاں، تاک گلستان کھڑی

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.